زندگی کا دستور ہے
ہر دور میں ایسے لوگ گزرتے ہیں۔
ارے یہ کیا کردیا
وہ مت کرو
تم مت بولو اورتم تو چپ ہی رہو۔
لوگ کیا کنہے گے
کوئی چیز باقی نہیں
جہاں حدود طے نہ کی ہو
ہماری زندگی انکے تجربات
اور خیالات میں نہ سمیٹی ہو۔
ہماری ہر خوشی سے جڑا
کوئی بھی مقصد
انکے فیصلے سے نہ ٹکرایا ہو
ایسا ممکن نہیں۔
ایک ڈر سا لگتا ہے
کچھ نیا سوچنے سے بھی
کچھ انداز بدلنے سے بھی
لوگ تو دور اپنوں میں دشمن سے لگتے ہیں۔
بات بس یہی ختم نہیں ہوتی
زندگی کا ہر موڑ
اور زندگی کی ہر دوڑ<
ہمیں نئے سبق سکھاتی ہے۔
ہمیں اسی طرح سلگھاتی ہے۔
یہ زندگی ایک تحفہ ہے
اس میں مشکلات اسے بھی بڑا انعام
لوگ آتے ہیں اور سکھاتے ہیں
پھر پیروں پر کھڑا کر کے چلے جاتے ہیں
No comments:
Post a Comment